جزا و سزا اتمام حجت کے ساتھ ہے - امین احسن اصلاحی

جزا و سزا اتمام حجت کے ساتھ ہے

 

  سوال: تاریخ کی گواہی ہے کہ زمانہ میں مشرکین و کفار کی تعداد ہمیشہ زیادہ رہی ہے۔ اگر قیامت کا واقع ہونا تسلیم کر لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رحیم و کریم ذات خداوندی نے دوزخ ہی کو بھرنے کا پلان بنایا ہوا ہے؟
    جواب: دنیا میں کفار و مشرکین اور خدا کے باغیوں اور نافرمانوں کی جو کثرت ہے، اس کو دیکھ کر ذہن میں یہ الجھن تو ضرور پیدا ہوتی ہے کہ اگر یہ ساری خلقت جہنم ہی میں جانے والی ہے تو اس دنیا کے پیدا کرنے کا مقصود تو دراصل دوزخ ہی کو بھرنا ٹھہرا، پھر جو خالق ایک ایسی دنیا بنا ڈالے جس کا انجام اتنا ہولناک ہونے والا ہے، اس کو رحیم و کریم کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے؟ یا تو وہ رحیم و کریم نہیں ہے یا پھر جزا و سزا کا عقیدہ غلط ہے۔
ایک عام آدمی جب اس سوال پر غور کرتا ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ یا تو وہ خدا کے رحیم و کریم ہونے کے بارے میں متردد ہو جاتا ہے یا پھر جزا و سزا کے عقیدہ میں۔ لیکن ظاہر ہے کہ خدا کے رحیم و کریم ہونے یا جزا و سزا کے باب میں متردد ہو جانے سے اصل سوال حل نہیں ہو جاتا۔ ہوتا جو کچھ ہے، وہ صرف یہ ہے کہ اصلی سوال چند دوسرے پیچیدہ تر سوالات سے بدل جاتا ہے۔ فرض کر لیجیے کہ اس دنیا کا خالق رحیم و کریم نہیں ہے، بلکہ ایک ظالم اور ستم گر ہے یا اس دنیا کے پیچھے جزا و سزا کا کوئی معاملہ نہیں ہے، یہ یوں ہی چلی آ رہی ہے اور یوں چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہو جائے گی تو کیا اس سے وہ سوال حل ہو جاتا ہے جو آپ کے ذہن میں پیدا ہوا ہے؟
اگر اس دنیا کے پیچھے جزا و سزا نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے خالق کی نگاہ میں بدکار و نیکو کار، ظالم اور منصف، مصلح اور مفسد دونوں برابر ہیں۔ اس کو اس چیز سے کوئی بحث نہیں کہ کس نے اس دنیا میں آکر نیکی اور بھلائی کی زندگی بسر کرنے کی کوشش کی اور کس نے یہاں فساد مچایا۔ غور کیجیے کہ کیا اس نتیجہ پر آپ کی فطرت، آپ کی عقل اور آپ کے دل مطمئن ہوتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ اس کائنات کے خالق کو ظلم ہی کی تہمت سے بچانے کے لیے تو آپ اوپر کے سوال میں جز ا و سزا کے بارے میں متردد ہوئے ہیں۔ اگر جزا و سزا کو نہ مانیے تو اس نہ ماننے سے بھی اس کائنات کے خالق پر ظلم کی تہمت عائد ہوتی ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ دنیا ایک رحیم و کریم خدا کی پیدا کی ہوئی دنیا نہیں رہ جاتی، بلکہ نعوذ باللہ ایک بدمست کھلنڈرے کا ایک کھیل بن کے رہ جاتی ہے جو روم کے بادشاہوں کی طرح اس کائنات کے تھیٹر میں بھوکے شیروں اور بے بس غلاموں کی کشتی کا تماشا دیکھ رہا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اس سوال پر غور کرتے وقت لوگ کفر و شرک اور ظلم و معصیت کی کثرت اور لوگوں کے اندر ان کے ارتکاب کی سرگرمیوں پر تو نگاہ ڈالتے ہیں، لیکن اس کائنات کے خالق نے ان چیزوں کے خلاف انسان کے باطن، انسان کے ظاہر، انسان کے علوم، انسانیت کی تاریخ، انسان کے نیچے پھیلی ہوئی زمین اور اس کے اوپر پھیلے ہوئے آسمان کے اندر جو ان گنت اور بے شمار حجتیں پھیلا دی ہیں، ان پر نظر نہیں ڈالتے۔ اگر ان پر بھی نظر ڈالیں تو تعجب اس بات پر نہیں ہو گا کہ خدا نے کفار و مشرکین سے یہ بھری ہوئی دنیا کیوں بنا ڈالی، بلکہ تعجب اور سخت تعجب اس بات پر ہو گا کہ کفر و شرک اور ظلم و معصیت کے خلاف اتنے عظیم اور اتنے بے شمار دلائل و براہین کے ہوتے ہوئے آخر انسان کفر و معصیت کی زندگی پر اس طرح کیوں ٹوٹا پڑ رہا ہے؟
یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح رہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے سمع و بصر اور عقل و فکر کی جو صلاحیتیں دی ہیں، وہ خدا کی ان حجتوں کو سمجھنے کے لیے بالکل کافی ہیں اور پرسش اور جزا و سزا جو کچھ ہو گی، انھی سے اور انھی کے لیے ہو گی جو ان صلاحیتوں سے بہرہ مند کیے گئے ہیں۔ جو لوگ ان صلاحیتوں سے محروم رکھے گئے ہیں، وہ ہر قسم کی پرسش سے بھی بری الذمہ قرار دیے گئے ہیں۔ اسی طرح جن کو یہ صلاحیتیں کم ملی ہیں، ان سے پرسش اور مواخذہ بھی ان کی صلاحیتوں ہی کے لحاظ سے ہو گا، ذرہ برابر بھی ان کی صلاحیتوں سے زیادہ نہیں ہو گا۔
قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقامات میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ جو لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے، وہ خود اس بات کا اقرار کریں گے کہ انھیں جو سزا ملی ہے، وہ اس کے حق دار تھے۔ انھوں نے اپنے آنکھ، کان، دل اور دماغ سے کام نہیں لیا، خدا کی نشانیوں، اس کے نبیوں کی باتوں اور اس کی کتابوں کی حکمتوں کی کوئی پروا نہیں کی، اس وجہ سے اس انجام کو پہنچے۔ اگر وہ سننے سمجھنے والے لوگ ہوتے، اپنی عقل اور سمجھ اور سمع و بصر سے کام لیتے تو اس دوزخ میں نہ پڑتے: ’وَقَالُوْا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ، فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِھِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ‘* (اور کہیں گے کہ اگر ہم بات سننے والے یا سمجھنے والے ہوتے تو ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے پس وہ اپنے جرم کا اقرار کریں گے تو دفع ہوں یہ دوزخی)۔
اس آیت سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دوزخ میں صرف وہی لوگ جائیں گے جن پر حجت تمام ہو چکی ہو گی اور اس حجت کے تمام ہونے کی شہادت دوسرے ان کے خلاف نہیں دیں گے، بلکہ وہ خود دیں گے۔ وہ خود ہی اس امر کا اعتراف کریں گے کہ انھوں نے خود اپنی نالائقیوں سے اپنی یہ شامت بلائی ہے، اس میں کسی دوسرے کا کوئی قصور نہیں ہے۔
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ ہم آپ اس دنیا میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کن لوگوں پر خدا کی حجت تمام ہے اور کن پر تمام نہیں ہے۔ یہ فیصلہ صرف خداے عالم الغیب ہی آخرت میں کرے گا۔ جہاں وہ ہر شخص کے سمع، بصر، فواد اور عقل سے یہ شہادت دلوا دے گا کہ کس نے خدا کی کیا کیا نافرمانیاں اپنی عقل و فطرت سے بغاوت کر کے محض نفس کی پرستش میں کی ہیں اور کون کون سی غلطیاں جہالت اور بے خبری کے عالم میں کی ہیں۔ جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے چاند اور مریخ تک پرواز کرنے کی صلاحیتیں دی ہیں، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس انسان کے اندر خود خدا تک پہنچنے کے لیے کیا کیا صلاحیتیں ودیعت ہیں، اس وجہ سے اسے حق ہے کہ وہ اس انسان سے پوچھے کہ تمھیں یہ چاند کے چھپے ہوئے دھبے تو نظر آگئے، لیکن خدا جو تل کے اوٹ میں پہاڑ کی طرح چھپا ہوا تھا، وہ تمھیں نظر نہیں آیا۔
اسی طرح جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، توریت اور انجیل کے ماننے کے مدعی ہیں، اپنی تقریروں اور تحریروں میں ان کے محامد بیان کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک طرف ان کے کارناموں کے رجسٹر ان کے آگے کھول کر رکھ دے گا اور دوسری طرف توریت، انجیل اور قرآن کو کھول کر رکھ دے گا اور پھر پوچھے گا کہ کیا موسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں انھی باتوں کی تعلیم دی تھی؟
بہرحال خد اکے ہاں جو جزا و سزا بھی ہو گی پوری طرح حجت تمام کرنے کے بعد ہی ہو گی۔ یہاں تک کہ ہر مجرم خود پکار اٹھے گا کہ اسے جو سزا ملی ہے بالکل انصاف کے ساتھ ملی ہے۔
اب اس اتمام حجت کے بعد بھی اور اس فطرت سے نوازے جانے کے علی الرغم جس کا ذکر پہلے سوال کے جواب کے سلسلہ میں آ چکا ہے، اگر انسانوں کی اکثریت دوزخ ہی میں گرے تو اس کا الزام انسان ہی پر ہے نہ کہ کائنات کے خالق پر۔ وہ ابدی زندگی کی خوشیاں حاصل کرنے کا زیادہ سے زیادہ لوگوں کو موقع دے رہا ہے اور جو زیادہ سے زیادہ الاؤنس ہر ایک کو مختلف حالات کے تحت ملنا چاہیے، وہ بھی مہیا کر رہا ہے۔ اب ان سب باتوں کے باوجود بھی لوگ اگر اس ابدی فوز و فلاح کا راستہ نہ اختیار کریں تو اس میں کس کا قصور ہے۔
اس بات کا زیادہ خیال نہ کیجیے کہ پھوک زیادہ نکل رہا ہے جوہر کم۔ جو خالق کائنات اس دنیا کو بلو رہا ہے، وہی جانتا ہے کہ اس دودھ سے کچھ مکھن نکل رہا ہے یا نہیں اور اگر نکل رہا ہے تو کتنا۔ بہرحال جب تک اس کے بلونے کا سلسلہ جاری ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سے مکھن نکل رہا ہے۔ اگر اس مکھن کا نکلنا بند ہو جائے گا تو اس کے بلونے کا سلسلہ بھی بند ہو جائے گا۔ پھر قیامت آجائے گی۔
پھر اس حقیقت کو بھی یاد رکھیے کہ جس کارخانہ میں جتنا ہی زیادہ قیمتی سامان تیار ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس کے لیے خام مواد بھی مطلوب ہوتا ہے اور اسی اعتبار سے اس پر خرچ بھی اٹھتا ہے۔ اپنے اس زمانہ میں ایٹم بم کے کارخانوں ہی کو دیکھ لیجیے۔ پھر جس کارخانے میں صد یقین، شہداء اور ابرار و صالحین تیار ہو رہے ہیں کون اندازہ کر سکتا ہے کہ اس کارخانے کے لوازم کیا کچھ ہیں۔

* الملک ۶۷: ۱۰۔۱۱۔

بشکریہ ماہنامہ اشراق، تحریر/اشاعت جنوری 2014
مصنف : امین احسن اصلاحی
Uploaded on : Feb 14, 2017
2435 View